Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز کے دوران دانت سے خون نکلنے پر کیا حکم ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2291-Web
- Issued
- 22 ذوالقعدة الحرام 1446ھ / 20 مئی 2025ء
Question
نہیں آیا ، کیا حکم ہے دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) زید دانت نکلوا کر آیا اور وضو کے بعد نماز ادا کرنے لگا، دوران نماز ایسا محسوس ہوا کے کچھ خون دانتوں میں باقی ہے ، مگر خون کا ذائقہ محسوس نہیں ہوا، تو نماز کا کیا حکم ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں نماز ہو گئی، کیونکہ دانتوں سے خون نکلنے سے نماز تب ٹوٹتی ہے جب خون کا ذائقہ حلق میں محسوس ہو جبکہ پوچھی گئی صورت میں ایسا نہیں ہوا۔ بہار شریعت میں ہے : "دانتوں سے خون نکلا، اگر تھوک غالب ہے تو نگلنے سے (نماز) فاسد نہ ہوگی، ورنہ ہو جائے گی ۔ غلبہ کی علامت یہ ہے کہ حلق میں خون کا مزہ محسوس ہو ، نماز اور روزہ توڑنے میں مزے کا اعتبار ہے اور وضو توڑنے میں رنگ کا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.