Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

احرام کے کفارے کی ادائیگی میں تاخیر کرنا کیسا؟

Fatwa no.
2296-Web

Question

احرام میں لازم ہونے والے کفارے کی ادائیگی میں تاخیر کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی شخص نے احرام کی حالت میں کفارہ لازم ہونے پر ادا کرنے میں تاخیر کی ہو توکیا تاخیر کی وجہ سے گناہگار ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

احرام کے کفارہ لازم ہوتے ہی فوراً اس کی ادائیگی کرنا واجب نہیں ہوتی، بلکہ اس میں تاخیر کی بھی اجازت ہے ، لہذا اگر کوئی شخص حج و عمرہ کے مکمل ہونے کے بعد کفارات ادا کرے تب بھی وہ گنہگار بھی نہیں ہوگا اور اس تاخیر سے اُس کے دیگر ارکان پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ البتہ افضل یہ ہے کہ جتنا جلدی ہو سکے کفارہ ادا کر کے اُسے اپنے ذمہ سے ساقط کر دے ۔ نیز یہاں اس بات کا خیال بھی ضروری ہے کہ دم کی ادائیگی چونکہ حرم میں ہی ہونا ضروری ہے ، حرم کے علاوہ کسی اور جگہ میں دم کی ادائیگی نہیں ہو سکتی ، لہذا جس پر دم لازم ہو اسے چاہئے کہ وطن واپس ہونے سے پہلے پہلے کم ادا کر دے کیونکہ وطن واپسی کے بعد عین ممکن…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.