Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مدینہ میں قرآن مکمل کرنے کی منت درست ہے؟

Fatwa no.
2254-Web
Issued
24 شوال المکرم 1446 هـ / 23 اپریل 2025 ء

Question

مدینہ منورہ میں مکمل قرآن پاک پڑھنے کی منت مانی تو کیا حکم ہے؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میں نے شرعی عذر کی حالت میں احرام کی نیت کی ، عذر ختم ہوا، تو میں نے منت مانی کہ اگر میرا عمرہ ہوگیا یعنی عمرہ کی ادائیگی میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا، تو میں ایک قرآن پاک مدینہ شریف میں پڑھوں گی ، مدینہ شریف جانے کے بعد مکمل قرآن پاک نہ پڑھ سکی، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟ جواب

Answer (beginning)

تلاوت قرآن پاک ایک اعلیٰ عبادت ہے اور مدینہ منورہ میں مزید خیر و برکت کا باعث ہے لہذا جس قدر ہو سکے تلاوتِ قرآن پاک جاری رکھیں ، لیکن اگر قرآن پاک مکمل ختم نہ کر سکے تو اس کی وجہ سے گناہ گار نہیں ہوں گے اور نہ ہی کوئی کفارہ واجب ہوگا کیونکہ تلاوت قرآن پاک کی منت شرعی منت نہیں ہے ۔ تلاوتِ قرآن کی منت لازم نہیں ہوتی ، اس حوالے سے مجمع الا نہر میں ہے : "لم يلزم الناذر ماليس من جنسه فرض كقراءة القرآن وصلاة الجنازة“ ترجمہ : جس کی جنس سے فرض نہ ہو وہ منت ماننے والے پر لازم نہیں ہوتی، جیسا کہ قرآن پاک کی تلاوت، نماز جنازہ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.