Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بالٹی وغیرہ میں موجود پانی کے مستعمل ہونے نہ ہونے کا معلوم نہیں، تو اس سے وضو وغسل کا حکم
- Fatwa no.
- 2278-Web
Question
دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر بالٹی ، ڈرم، ٹینکی و غیرہ میں پانی ہو اور ہمیں معلوم نہ ہو کہ مستعمل ہے یا نہیں تو اس پانی سے وضو غسل ہوگا یا نہیں ؟ اور اگر یہ اندیشہ ہو کہ بالٹی یا ڈرم وغیرہ سے پانی ڈالتے یا نکالتے وقت ہاتھ یا انگلی پانی میں گیا ہوگا ، کیونکہ بعض لوگوں کو اس مسئلہ کا علم نہیں ہوتا ، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ اس بالٹی ، ڈرم وغیرہ میں موجود پانی واقعۂ مستعمل ہے ، تو محض شک وشبہ کی بناء پر اس پانی کو مستعمل نہیں کہیں گے ، اس سے وضو وغیرہ کرنا بالکل جائز و درست ہے ۔ اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "أصل اشیاء میں طہارت وحلت ہے جب تک تحقیق نہ ہو کہ اس میں کوئی نا پاک یا حرام چیز ملی ہے، محض شبہ پر نجس و ناجائز نہیں کہہ سکتے ۔ ۔ ۔ ہاں اگر کچھ شبہ ڈالنے والی خبر سن کر احتیاط کرے ، تو بہتر (ہے) ۔ ۔ ۔ مگر نا جائز و ممنوع نہیں کہہ سکتے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.