Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیکڑے کی خرید و فروخت کا حکم
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2275-Web
Question
کیڑے کی خرید و فروخت کا حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیکڑا کھانا حلال نہیں، تو اس کی خرید و فروخت کا کیا حکم ہوگا؟ جواب
Answer (beginning)
کیکڑے کی خرید و فروخت کرنا بھی جائز نہیں ہے ۔ بہار شریعت میں ہے : " مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانورمینڈک ، کیکڑا وغیر ہ اور حشرات الارض چوہا، چھچھوندر، گھونس، چھپکلی ، گرگٹ ، گوہ، بچھو، چیونٹی کی بیع ناجائز ہے ۔ " (بہار شریعت، جلد 2 ، صفحه : 810 مكتب الد ین، کراچی) وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم مجیب : مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی فتوی نمبر : 2275-Web تاريخ اجراء : 04 ذو القعدة الحرام 1446ء 02 مئ 2025ء دار الافتا اهلسنت Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.fatwaqa.com Dar-ul-ifta…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.