Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس کی غیبت کی اسے معلوم نہ ہو تو اس سے معافی مانگنے کا حکم
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2272-Web
- Issued
- 26 شوال المکرم 1446ھ / 25 اپریل 2025ء
Question
جس کی غیبت کی اسے معلوم نہ ہو تو اس سے معافی مانگے بغیر تو بہ ہو جائے گی ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کی غیر موجودگی میں اس کی غیبت کی تو کیا تو بہ کے لیے اس شخص سے معافی مانگنا ضروری ہو گا جس کی غیبت کی ہے؟ جواب
Answer (beginning)
جس کی غیبت کی اگر اسے خبر نہ ہوئی ہو تو فقط تو بہ کافی ہے اس سے معافی مانگناضروری نہیں البتہ اگر اسے معلوم ہو چکا ہو تو اب اس سے معافی مانگنی ہوگی۔ تفسیر صراط الجنان میں ہے : " (1)... جس کی غیبت کی اگر اس کو اس کی خبر ہوگئی تو اس سے معافی مانگنی ضروری ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے سامنے یہ کہے کہ میں نے تمہاری اس اس طرح غیبت یا برائی کی تم معاف کر دو، اس سے معاف کرائے اور تو بہ کرے تب اس سے بری الذمہ ہو گا اور اگر اس کو خبر نہ ہوئی ہو تو تو بہ اور ندامت کافی ہے ۔ (2) ...
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.