Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شراب کی لوڈنگ یا اَن لوڈنگ کا کام کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 2271-Web
- Issued
- 20 شوال المکرم 1446 ھ / 19 اپریل 2025ء
Question
شراب کی لوڈنگ یا آن لوڈنگ کا کام کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی مسلمان کسی غیر مسلم ملک میں ایسے گودام میں لوڈنگ، ان لوڈنگ کا کام کرتا ہو جہاں شراب آگے دکانوں پر ڈیلیور کرنے کے لئے آتی ہو اور وہ مسلمان شخص شراب کی بوتلوں کو لوڈ کرتا ہو تا کہ لفٹر مشینیں انہیں آگے ٹرکوں تک پہنچا سکیں، تو اس شخص کا ایسا کرنے کا کیا حکم ہوگا؟ جواب
Answer (beginning)
جس طرح شراب پینا حرام ہے اسی طرح شراب کو اٹھانا، رکھنا، رکھوانا بھی حرام ہے لہذا جس نوکری میں شراب کو لوڈ، ان لوڈ کرنا پڑے مسلمان کے لئے ایسی نوکری کرنا، جائز نہیں بلکہ گناہ ہے ۔ جامع ترمذی میں ہے : " لعن رسول الله صلى الله تعالی علیه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها ومعتصرها وشاربها وحاملها والمحمولة اليه وساقيها وبائعها وأكل ثمنها والمشترى لها والمشتراة له“ ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے شراب کے معاملے میں دس بندوں پر لعنت فرمائی ہے ، جو شراب کے لیے شیرہ نکالے ، جو شیرہ نکلوائے ، جو شراب پیے ، جو اٹھا کر لائے ، جس کے پاس لائی جائے ، جو شراب پلائے ، جو بیچے ، جو اس کے دام کھائے ،…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.