Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شوہر سے الگ رہنے کے بعد طلاق ہوئی تو عدت کب سے ہوگی؟

Fatwa no.
2270-Web
Issued
20 شعبان المعظم 1446ھ / 19 فروری 2025ء

Question

شوہر سے دو ماہ الگ رہنے کے بعد طلاق ہوئی، تو عدت کب سے ہوگی دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک خاتون دو مہینے سے شوہر سے الگ رہ رہی ہو پھر شوہر اسے طلاق دے دے ، تو اس کی عدت طلاق کے وقت سے شروع ہوگی یا جب سے وہ وہ شوہر سے الگ ہے ، اس وقت سے عدت کو شمار کرے گی ؟ عورت حاملہ نہیں ہے اور شوہر سے الگ ہونے کے بعد ایک ہی بار ماہواری آئی ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

بیوی چاہے شوہر سے کتنا ہی عرصہ دور رہے ، بہر حال طلاق کے بعد اسے عدت پوری کرنی ہوگی اور عدت اسی وقت شروع ہوگی جب سے شوہر نے طلاق دی ہے ، طلاق سے پہلے کا وہ وقت جس میں بیوی شوہر کے ساتھ نہیں رہی وہ عدت میں شمار نہیں ہو گا اور عدت عورت کی حالت کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے ۔ عورت اگر حاملہ نہیں تو اس کی عدت تین حیض ہوتی ہے ، یعنی طلاق کے بعد مکمل تین ماہواریاں آکر ختم ہو جائیں تو عدت ختم ہو جاتی ہے چاہے وہ تین ماہ میں ہوں یا زیادہ عرصے میں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.