Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زمین دے کر کرایہ لینا یا آدھی فصل لینا

Fatwa no.
2273-Web
Issued
25 شوال المکرم 1446 ھ / 24 اپریل 2025 ء

Question

اپنی زمین کسی کو دے کر رقم لینا یا آدھی فصل لینا کیسا؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص اپنی زمین کسی کو کھیتی باڑی کے لئے دیتا ہے اور اس سے طے شدہ رقم لیتا ہے اور یا آدھی فصل لیتا ہے ، تو کیا یہ جائز ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

(1) کسی کو اپنی زمین معین مدت کے لئے معین پیسے سے کرایہ پر دینا جائز ہے جبکہ یہ طے ہو جائے کہ فلاں چیز کی کاشت کرے گا یا تعمیم ہو جائے کہ جو جی چاہے کرے ۔ (2) کسی کو اپنی زمین اس طور پر کاشت کے لیے دینا کہ جو کچھ پیداوار ہوگی وہ دونوں میں آدھی آدھی یا ایک تہائی، دو تہائی تقسیم ہوگی، اس کے لیے چند شرائط ہیں، اگر وہ پائی جائیں گی، تو یہ معاملہ جائز ودرست ہوگا ورنہ نہیں ۔ وہ شرائط درج ذیل ہیں : عاقدین، عاقل، بالغ ، آزاد ہوں ۔ زمین قابل زراعت ہو۔ زمین معلوم و متعین ہو ۔ مالک زمین ، کاشتکار کو زمین سپرد کر دے ، خود کام نہ کرے ۔ مدت معلوم ہو کہ کتنے عرصے کے لیے دی جارہی ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.