Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عالم کا گناہ ایک جبکہ جاہل کا گناہ دو گناہ ہیں، اس کے متعلق ایک شبہ کا ازالہ

Fatwa no.
2266-Web

Question

عالم کا گناہ ایک جبکہ جاہل کا گناہ دو گناہ ہیں، اس کے متعلق ایک شبہ کا ازالہ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک روایت کہیں پڑھی تھی کہ عالم کا گناہ ایک گنا جبکہ جاہل کا گناہ دو گناہ ہے ایک علم نہ سیکھنے کا اور ایک بے عملی کا جبکہ ایک مقام پر پڑھا کہ عالم کا گناہ زیادہ خطر ناک ہے کہ علم سیکھ کر بے عملی کی طرف گیا ان میں سے درست کیا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

مذکورہ دونوں باتیں اپنی جگہ درست ہیں ، جاہل کا گناہ زیادہ ہے ، عالم کا گناہ کم ، لیکن یہ کم گناہ جاہل کے گناہ کے مقابلے میں زیادہ خطر ناک ہے ۔ جامع صغیر کی حدیث شریف میں ہے : " ذنب العالم ذنب واحد، و ذنب الجاهل ذنبان “ یعنی عالم کا گناہ ایک گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دو گناہ ہیں ۔ (الجامع الصغير مع فیض القدیر ، حدیث 4335، جلد 3، صفحہ 695، مطبوعہ : بیروت) اس حدیث کے تحت فیض القدیر میں ہے : ” قیل ولم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم؟ قال: العالم يعذب علی ركوبه الذنب، والجاهل يعذب على ركوبه الذنب وترك العلم یعنی عرض کی گئی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایسا کس لیے ؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.