Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سیدہ کی غیر سید اولاد کے لئے زکوٰۃ لینے کا حکم

Fatwa no.
2264-Web
Issued
11 شوال المکرم 1446ھ / 10 اپریل 2025ء

Question

سیدہ کی غیر سید اولاد کے لئے زکوۃ لینے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک سیدہ خاتون ہیں ، ان کی ایک غیر سید بالغہ بیٹی ہے جو والدہ کے ساتھ رہتی ہیں ، والد خرچہ نہیں دیتے۔ کئی لوگ رقم کے ذریعہ ان کی مدد کرتے ہیں اور بعض اوقات کپڑے بھی مل جاتے ہیں ۔ جو رقم ان کو دی جاتی ہے ، اس میں زکوۃ کے پیسے بھی شامل ہوتے ہیں ۔ لوگ والدہ کے ہاتھ میں رقم دیتے ہیں، وہ بیٹی کی نیت سے قبضہ میں لے کر خرچ کرتی ہیں پوچھنا یہ ہے کہ کیا وہ پیسے بیٹی کے ہاتھ میں رکھنے ضروری ہیں اور پھر اس کی اجازت سے استعمال کرنے ہوں گے ؟ نیز والدہ ان پیسوں سے گھر کا راشن لاتی ہیں اور وہ خود اور ان کے دوسرے بچے بھی اس میں سے کھاتے ہیں ۔ کیا اس طرح کرنا ان کے لئے جائز ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

والدہ سیدہ ہیں ، تو ان کو زکوۃ نہیں دی جا سکتی۔ البتہ بیٹی سیدہ یا ہاشمیہ نہیں ہے اور شرعی فقیر مستحق زکوۃ ہے ، تو بیٹی کو زکوۃ دے سکتے ہیں ۔ یادر ہے کہ زکواۃ کی ادائیگی کے لئے شرعی فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے لہذا بیٹی کو مالک بنا کر زکوۃ کی رقم دے دیں اس کے بعد بیٹی جہاں چاہے خرچ کرے ، اگر اپنی طرف سے ماں کو گھر خرچ کے لئے دینا چاہے تو دے سکتی ہے اور اس میں سے تمام لوگ استعمال کر سکتے ہیں ۔ ہاں اگر مستحق زکوۃ بیٹی، ماں کو اپنی زکوۃ وصول کرنے کا وکیل بنا دے اور دینے والے بطور وکالت ماں کو زکوۃ دیں کہ یہ زکوۃ وہ اپنی بیٹی کو دے دے تو پھر ماں بطور وکیل وصول کر سکتی ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.