Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
واش روم میں تھوکنے کا حکم
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2130-Web
Question
واش روم میں تھوکنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا واش روم میں تھوکنا منع ہے ؟ اگر منع ہے تو اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب ارشاد فرما دیں ۔ جواب
Answer (beginning)
پاخانہ یا پیشاب میں تھوکنے کی ممانعت ہے کیونکہ مسلمان کا منہ قرآن عظیم اور دیگر اذکار الہی کرتا ہے تو اس کا لعاب کسی ناپاک جگہ پر نہ ڈالا جائے ، ہاں واش روم کی ایسی جگہ جہاں نجاست نہ ہو، وہاں تھوک سکتے ہیں ۔ فتاوی رضویہ میں ہے : ہاں پاخانے میں تھوکنے کی ممانعت ہے کہ مسلمان کا منہ قرآن عظیم کا راستہ ہے وہ اس سے ذکر الہی کرتا ہے تو اس کا لعاب نا پاک جگہ پر ڈالنا بے جا ہے ، ردالمحتار میں ہے : لا يبزق فى البول اه قلت والدليل اعم كما علمت پیشاب میں نہ تھو کا جائے اور میں کہتا ہوں اور دلیل عام ہے جیسا کہ تم جانتے ہو (ت) البتہ وہاں کی دیوار و غیر ہ جہاں نجاست نہ ہو اس پر تھوکنے میں حرج نہیں واللہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.