Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقیم موزوں پر مسح کی مدت پوری ہونے سے پہلے مسافر ہوگیا تو حکم
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2129-Web
Question
مقیم نے موزوں پر مسح کیا مدت پوری نہ ہوئی تھی کہ مسافر ہو گیا تو حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) مقیم نمازی نے وضو کر کے چمڑے کے موزے پہنے اور وضو کیا، ابھی ان پر مسح کا وقت باقی تھا کہ وہ شرعی مسافر بن گیا، تو کیا اب وہ انہی موزوں پر مزید دو دن تک مسح کر سکتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
مقیم شخص نے طہارت حاصل کر کے موزے پہن لیے اور ایک دن پورا ہونے سے پہلے شرعی مسافر بن گیا تو اس کے حق میں مدتِ مسح ، مسافر والی ہو جائے گی، یعنی اب وہ شخص ابتدائے حدث سے لے کر تین دن ، تین راتوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے ، ابتدائے حدث سے کچھ وقت مثلاً ایک دن سفر سے پہلے گزر چکا ہے ، مزید دو دن اب سفر میں مسح کر سکتا ہے ۔ بہار شریعت میں ہے : " مقیم کو ایک دن رات پورا نہ ہوا تھا کہ سفر کیا، تو اب ابتدائے حدث سے تین دن ، تین راتوں تک مسح کر سکتا ہے اور مسافر نے اقامت کی نیت کر لی ، تو اگر ایک دن رات پورا کر چکا ہے، مسح جاتا رہا اور پاؤں دھونا فرض ہو گیا اور نماز یں تھا تو نماز جاتی رہی اور اگر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.