Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گناہوں کو منحوس سمجھنے کا حکم
- Answered by
- مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2128-Web
- Issued
- 02 شعبان المعظم 1446 ـ / 01 فروری 2025ء دام الاحياء اهلسنت
Question
گناہوں کو منحوس سمجھنا اور کہنا کیسا ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) گناہوں کو منحوس سمجھنے اور کہنے کا کیا حکم ہے؟ جواب
Answer (beginning)
گناہ کو منحوس سمجھنا اور کہنا بالکل درست ہے ۔ اور جس وقت ، دن یا مہینے میں کوئی گناہ کیا جائے تو وہ وقت گناہ کے اعتبار سے گناہگار کے حق میں منحوس ہے ، البتہ گناہ کی وجہ سے گناہ گار مسلمان کو منحوس نہیں کہہ سکتے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " معصیت بجائے خود نحس ہے ۔ (فتاوی رضویہ ، جلد 21، صفحہ 223 -224، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور) تفسیر صراط الجنان میں ہے : ” کوئی دن یا مہینہ حقیقی طور پر محسوس نہیں البتہ جس وقت ، دن یا مہینے میں کوئی گناہ کیا جائے یا اس میں گناہگاروں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہو تو وہ گناہ اور عذاب کے اعتبار سے گناہگار کے حق میں محسوس ہے ، جیسا که…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.