Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے وضو یا غسل کا حکم
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2237-Web عالم الافيا اهلسنت
- Issued
- 16 شوال المکرم 1446ء / 15 اپریل 2025ء
Question
میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے وضو یا غسل کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر خاوند بیوی کو یا بیوی خاوند کو شہوت کے ساتھ چھوئیں تو غسل کا کیا حکم ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
فقط بیوی کا شوہر کویا شوہر کا بیوی کو شہوت کے ساتھ چھونا، وضو یا غسل کا سبب نہیں ہے جب تک کہ مذی یا منی خارج نہ ہوئی ہو ۔ اگر مذی خارج ہوئی تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر شہوت کے ساتھ منی نکلی تو غسل لازم ہوگا ۔ بدائع الصنائع میں ہے : "لو لمس امرأته بشهوة، أو غير شهوة فرجها أوسائر أعضائها من غير حائل ولم ينشر لهالاينتقض وضوءه عند عامة العلماء یعنی اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو شہوت کے ساتھ یا بغیر شہوت اس کی شرم گاہ یا بدن کے دیگر حصوں کو بغیر کسی حائل کے چھوٹے اور اس سے اس کی شہوت نہ بھڑ کے ، تو جمہور علما کے نزدیک اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.