Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ایلا میں قسم کے الفاظ ضروری ہیں؟

Fatwa no.
2258-Web
Issued
20 صفر المظفر 1447ء /15 اگست 2025. علم الافتاء اهلسنت

Question

ایلا کے الفاظ میں قسم کا لفظ کہنا ضروری ہے یا نہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایلا میں قسم کے الفاظ کہنا ضروری ہے یا قسم کے الفاظ کے بغیر بھی ایلا ہو جائے گا ؟ مثلاً : یوں کہنا : میں تم سے کبھی ہمبستری نہیں کروں گا یا میں تمہارے پاس نہیں آؤں گا ۔ یہ الفاظ قسم کے بغیر کہنے سے ایلا ہو گا یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

ایلا میں قسم کھانا ضروری ہے ، قسم کے بغیر کہے گئے الفاظ ایلا نہیں البتہ قسم کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں : ایک یہ کہ اللہ کریم کا نام لے کر یا اس کی ان صفات کی قسم کھا کر ایلا کے الفاظ کہے جائیں جن سے قسم کھائی جاتی ہے ۔ دوسری یہ کہ ایلا کو معلق کیا جائے مثلاً میں اپنی بیوی سے جماع کروں تو مجھ پر اتنے روزے واجب ہیں وغیرہ ۔ بہار شریعت میں ہے : "ایلا کے معنی یہ ہیں کہ شوہر نے یہ قسم کھائی کہ عورت سے قربت نہ کریگا یا چار مہینے قربت نہ کریگا ۔ ۔ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.