Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کُھجانے کیوجہ سے دانہ پھوٹے تو وضو ٹوٹ جائیگا؟
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2256-Web
Question
ومنو کی حالت میں سر کھجایا، جس سے دانہ کھل گیا، لیکن خون نہیں بہا، تو وضو کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) وضو کی حالت میں سر کھجایا ، جس کی وجہ سے دانہ سے خون نکل آیا، وہ خون اتنا نہیں تھا کہ بہہ جائے ، لیکن کھجانے سے کچھ پھیل گیا ، تو کیا اس صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر خون بہہ کر اپنی جگہ سے نکلا یا فوراً صاف کر دیا کہ بہا نہیں مگر اتنا تھا کہ صاف نہ کرتے تو بہہ جاتا، ان صورتوں میں وضو ٹوٹ گیا اور اگر خون صرف ابھرا یا چمکا مگر یہا نہیں تو وضو نہیں ٹوٹا ۔ بہار شریعت میں ہے : "خون یا پیپ یا زرد پانی کہیں سے نکل کر یہا اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وضو جاتا رہے گا اگر صرف چمکایا ابھرا اور بہا نہیں جیسے سوئی کی نوک یا چا قو کا کنارہ لنگ جاتا ہے اور خون ابھریا چمک جاتا ہے یا خلال کیا یا مسواک کی یا انگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیز کاٹی اس پر خون کا اثر پایا یا ناک میں انگلی ڈالی اس پر خون کی سرخی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.