Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رہائش کی نیت سے پلاٹ خریدا لیکن آبادی نہ ہونے پر بیچنے کی نیت بھی ہے تو زکوٰۃ کا حکم؟

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
2252-Web
Issued
10 شوال المکرم 1446 / 09 اپریل 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

رہائش کی نیت سے پلاٹ خرید لیکن آبادی نہ ہونے پر بیچنے کی نیت بھی ہے تو زکوۃ کا حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر اس نیت سے پلاٹ خریدا کہ اس کو بنا کر یہاں رہ لیں گے ، اپنا گھر ہو جائے گا اور اگر یہاں آبادی نہ ہو سکی ، تو اس کو نیچ کر کہیں اور گھر یا پلاٹ لے لیں گے ۔ کیا اس پلاٹ پر زکوۃ لازم ہوگی ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر واقعی یہ نیت تھی کہ یہاں آبادی ہونے پر اپنا گھر بنالیں گے ، نہ ہوئی تو بیچ دیں گے تو وہ جگہ مال تجارت نہیں کہلائے گی اور اس پلاٹ پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی البتہ اس کی وجہ سے قربانی ، صدقہ فطر، حج وغیرہ واجب ہو سکتے ہیں جبکہ ان کے وجوب کی شرائط پائی جائیں ۔ فتاوی شامی میں ہے : ”ولونوى التجارة بعد العقد أو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لازكاة عليه “ ترجمہ : اگر عقد کے بعد تجارت کی نیت کی یا کسی چیز کو اپنے استعمال کے لئے خریدا اس نیت کے ساتھ کہ اگر نفع ملا تو اسے بیچ دوں گا تو اس پر زکوۃ نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.