Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بغیر جوئے کے تاش کھیلنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2251-Web
- Issued
- 15 شوال المکرم 1446ھ / 14 اپریل 2025 ء علم الافتاء اهلسنت
Question
بغیر جوئے کے تاش کھیلنا کیسا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا جوئے کی شرط کے بغیر بھی تاش کھیلنا بھی گناہ ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں ! تاش کھیلنا مطلقاً ناجائز وگناہ ہے چاہے جوئے کی شرط ہو یا نہ ہو، کہ اس میں لہو ولعب کے علاوہ تصاویر کی تی ཤེ་ بھی پائی جاتی ہے ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " تاش اور اسی طرح گنجنہ بوجہ اشتمال و اعزاز تصاویر مطلقاً بلا شرط ممنوع و نا جائز ہے اور مصروف رہنا فسق ۔ در مختار میں ہے : کره کل لهولقوله صلی اللہ تعالٰی عليه وسلم كل لهو المسلم حرام الاثلثة ملاعبته اهله و تاديبه لفرسه و مناضلته بقوسہ ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.