Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دورانِ نماز ناک پر بیٹھی مکھی کو پھونک مار کر اڑانا

Fatwa no.
2250-Web
Issued
20 شوال المکرم 1446ء 19 اپریل 2025ء

Question

دوران نماز ناک پر بیٹھی مکھی کو پھونک مار کر اڑانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) نماز کے دوران اچانک مکھی ناک پر بیٹھ گئی تو نماز میں انسان چونک کر ذرا سر پیچھے کیا اور ہاتھ بلائے بغیر ہی ہلکی سی پھونک مار کر اڑا دی اور نماز جاری رکھی تو کیا نماز ہو جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

نماز میں قصداً پھونک مارنا مکروہ ہے ۔ اور اگر پھونک مارنے میں دو حروف پیدا ہو جائیں تو نماز فاسد ہو جائے گی لہذا اس کام سے بچنا ضروری ہے ۔ اور اگر مچھر یا مکھی تنگ کر رہی ہو تو عمل قلیل کے ذریعے ہاتھ سے دور کر لیا جائے ۔ بہار شریعت میں ہے : پھونکنے میں اگر آواز پیدا نہ ہو، تو وہ مثل سانس کے ہے ، مفید نہیں، مگر قصداً ایسا کرنا مکروہ ہے اور اگر دو حرف پیدا ہوں، جیسے اف، تف، تو ، مفسد ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.