Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وتر کی رکعات کی تعداد میں شک ہو، تو دعائے قنوت کب پڑھیں؟
- Fatwa no.
- 2232-Web
- Issued
- 25 شوال المکرم 1446ھ / 24 اپریل 2025ء
Question
و ترکی رکعات کی تعداد میں شک ہو، تو دعائے قنوت کب پڑھیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) وتر میں اگر تعداد رکعت میں شک ہو جائے کہ دوسری ہے یا تیسری تو دعائے قنوت کب پڑھے ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر بالغ ہونے کے بعد زندگی میں پہلی مرتبہ رکعتوں کی تعداد میں شک ہوا ہو تو سلام پھیر دے اور نماز دوبارہ پڑھے ۔ اگر پہلے بھی ایسا شک ہو چکا ہے تو (1) ظن غالب پر عمل کرے یعنی اگر خیال غالب ہو کہ دوسری رکعت ہے تو دوسری ہی سمجھے اور اگر تیسری رکعت ہونے کا خیال غالب ہو تو تیسری کی طرح پڑھے اور اس میں دعائے قنوت پڑھے ، ظن غالب پر عمل کی صورت میں آخر میں سجدہ سہو نہیں کرے گا ، ہاں اگر یہ سوچنے میں کہ کتنی رکعتیں ہوئیں ایک رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار خاموش رہا تو سجدۂ سہو واجب ہوگا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.