Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آنکھ نہ کھلنے سے کے سبب فجر قضا ہوئی، تو کس نیت سے پڑھنی ہوگی؟
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2231-Web
- Issued
- 18 شوال المکرم 1446 / 17 اپریل 2025 ء
Question
آنکھ نہ کھلنے سے کے سبب غیر قضا ہوئی، تو کس نیت سے پڑھنی ہوگی ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) فجر کی نماز پابندی سے وقت پر ادا کرنے والا شخص اگر کسی دن آنکھ نہ کھلنے کی وجہ سے سورج نکلنے کے بعد نماز پڑھے گا ، تو کیا وہ قضا کی نیت کرے گا یا ادا کی؟ جواب
Answer (beginning)
ادا کا مطلب ہے : نماز کو اس کے مقررہ وقت کے اندر پڑھنا، جبکہ پوچھی گئی صورت میں نماز کا وقت ختم ہو چکا ہے لہذا اب وہ نماز قضا ہی ہے ، ادا نہیں ہے ، اور نیت بھی قضا کی کرے گا ۔ تاہم اگر ادا کی نیت کی تب بھی نماز ہو جائے گی اور قضا ہی ہوگی ، کیونکہ قضا نماز میں اگر چہ ادا کی نیت کی جائے تب بھی نماز ہو جاتی ہے ، اسی طرح اگر کسی نے وقت نماز باقی ہوتے ہوئے نماز میں اس وقت کی قضا کی نیت کی تب بھی نماز ادا ہو گئی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.