Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تشہد میں التحیات کے بجائے صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ دیا، تو کیا حکم ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2229-Web
- Issued
- 17 شوال المکرم 1446هـ / 16 اپریل 2025 ء علم الافتاء اهلسنت
Question
تشہد میں التحیات کے بجائے صلی اللہ علیہ وسلم پڑھ دیا، تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی خاتون نماز میں التحیات پڑھنے کی جگہ غلطی سے "صلی اللہ علیہ وسلم " پڑھ لے پھر یاد آنے پر فوراً التحیات پڑھ لے، تو کیا اس کی وہ نماز واجب الاعادہ ہوگی ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں سجدہ سہو واجب ہوگا اور اس کے بغیر سلام پھیر کر نماز سے باہر ہو گئے تو نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہو گا کیونکہ نماز کے قعدے میں التحیات سے شروع کرنا واجب ہے ، اس سے پہلے درود پاک پڑھنے سے اس واجب کا ترک ہوتا ہے اور بھولے سے ترک واجب ہونے کی صورت میں سجدۂ سہو لازم ہو تا ہے اور اگر جان بوجھ کر پڑھا تو اس نماز کا اعادہ یعنی دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا ۔ علامہ سید احمد طحطاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ”ولو قرأ آية فی الرکوع اوالسجوداوالقومةفعليهالسهوولوقرأ في القعودان قرأقبل التشهد في القعدتين فعليه السهولترک واجب الابتداء بالتشهداول الجلوس» یعنی اگر رکوع ، سجدہ یا قومہ میں آیت کی…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.