Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کو گڑ میں تولنے کی منت ماننا

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2227-Web
Issued
14 شعبان المعظم 1446 /13 فروری 2025ء علم الافتاء اهلسنت

Question

بچے کو گڑ میں تولنے کی منت ماننا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کچھ عورتیں اس طرح منت مانتی ہیں کہ میرے بچے کی یہ بیماری دور ہو گئی، تو میں فلاں مزار پر جا کر بچے کو گڑ میں تو لوں گی، تو ان کا اس طرح کی منت ماننا کیسا ؟ جواب

Answer (beginning)

شرعاً عورتوں کو مزارات پر جانے کی اجازت نہیں ہے، لہذا عور تیں ہر گزمزارات پر نہ جائیں ۔ بچوں کو گڑ، شکر میں تولنے کی منت سے مراد، ان کے وزن کے برابر وہ چیز امیر و غریب سب میں تقسیم کر کے اس کا ثواب صاحب مزار کو ایصال کرنا ہے ، تو یہ نذر عرفی ہے ، شرعی نہیں، اس کے معنی نذرانہ اور ہدیہ کے ہیں ، لہذا یہ نذر ماننے میں حرج نہیں، تاہم اسے پورا کرنا واجب نہیں، بہتر ہے ۔ ہاں اگر منت میں مقصود رب عزوجل کی رضا کے لئے صرف فقراء پر ہی صدقہ کرنا اور اس پر حاصل ہونے والا ثواب بزرگ کو ایصال کرنا، ہو تو یہ منت شرعی ہو جائے گی اس صورت میں منت کو پورا کرنا لازم ہوگا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.