Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

خاص کپڑوں میں نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی، پھر ان کپڑوں میں پڑھ لی، تو کیا حکم ہے

Fatwa no.
2240-Web
Issued
10 شوال المکرم 1446ھ / 09 اپریل 2025ء

Question

خاص کپڑوں میں نماز نہ پڑھنے کی قسم کھائی ، پھر ان کپڑوں میں پڑھ لی، تو کیا حکم ہے دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص نے قسم کھائی کہ میں فلاں کپڑے پہن کر نماز نہیں پڑھوں گا، پھر اس نے وہی کپڑے پہن کر نماز پڑھ لی، تو کیا نماز ہو جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں نماز تو ہوگئی، البتہ قسم کا کفارہ لازم ہوا۔ واضح رہے کہ ہر بات پر قسم نہیں اٹھانی چاہئے ، بعض لوگوں کا تکیہ کلام ہوتا ہے کہ بلاوجہ قسمیں کھاتے رہتے ہیں ، اس کے متعلق مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت قسم کے باب میں فرماتے ہیں : قسم کھانا جائز ہے مگر جہاں تک ہو کسی بہتر ہے اور بات بات پر قسم کھائی نہ چاہیے اور بعض لوگوں نے قسم کو تحیہ کلام بنارکھا ہے کہ قصد و بے قصد زبان سے جاری ہوتی ہے اور اس کا بھی خیال نہیں رکھتے کہ بات سچی ہے یا جھوٹی یہ سخت معیوب ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.