Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چیزیں استعمال کے لئے مدرسہ و مسجد میں رکھنا اور ضرورت کے وقت واپس لینا
- Fatwa no.
- 2239-Web
- Issued
- 12 شوال المکرم 1446ھ 11 اپریل 2025 ء
Question
چیزیں استعمال کے لئے مدرسہ و مسجد میں رکھنا اور ضرورت کے وقت واپس لینا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا کوئی شخص چیز اپنی ملکیت میں رکھتے ہوئے کسی مدرسہ میں استعمال کے لیے دے سکتا ہے کہ وہ جب چاہے اس چیز کو واپس لے لے جیسے کتابیں مدرسہ میں رکھ دیں کہ طلبا پڑھیں اور جب مالک کو ضرورت ہو وہ واپس لے لے ، اسی طرح کار پیٹ وغیرہ مدرسہ میں استعمال کے لئے دئیے کہ جب ضرورت ہوگی واپس بھی لے لے گا۔ نیز اگر مدرسہ کے لئے کوئی چیز وقف کرنے کے بعد مالک اپنی نیت تبدیل کرلے کہ یہ مال مدرسہ کے لئے بھی استعمال کیا جائے اور اس سے ہٹ کر دینی کاموں کے لئے بھی، تو کیا ایسا کرنا ، جائز ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
مدرسہ میں اس نیت سے کتابیں رکھنا کہ طلبا استفادہ کرتے رہیں اور جب مجھے ضرورت ہوگی تو واپس لے لوں گا یعنی یہ کتا ہیں وقف کرنے کی نیت سے مدرسہ میں نہ رکھے ، تو کتا ہیں مدرسہ میں طلبا کے استفادہ کی خاطر رکھنے اور بعد میں واپس لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں یہی حکم کار پیٹ وغیرہ دیگر چیزوں کا ہے ۔ ہاں ! کوئی چیز وقف کر دینے کی صورت میں حسب شرائط واقف ہی استعمال ہوگی اور جب تک قابل استعمال ہیں واقف ان چیزوں کو واپس نہیں لے سکتا۔ نیز وقف کی گئی چیز جس مصرف پر وقف کر لی صرف اسی میں استعمال ہو سکتے ہیں، بعد میں اس میں تبدیلی بھی نہیں کر سکتے اگر چہ دوسر ا مقصد جس میں یہ استعمال ہوگا وہ بھی کارِ خیر ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.