Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گھر پر فجر کی نماز پڑھنے کی صورت میں بیوی کو ساتھ ملا کر جماعت کرنا جبکہ شوہر داڑھی منڈا ہو

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2142-Web
Issued
07 رجب المرجب 1446ھ/08 جنوری 2025ء

Question

دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص گھر پر فجر کی نماز پڑھے اور اپنی بیوی کے ساتھ جماعت کرنا چاہے ، تو کیا اس کی اجازت ہوگی جبکہ شوہر داڑھی منڈوا تا ہو ؟ جواب

Answer (beginning)

مردوں پر مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے اور بلا عذر شرعی جماعت کو ترک کرنا ، ناجائز و گناہ ہے ۔ اس لئے وہ گھر پر نماز نہ پڑھیں ، بلکہ مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کریں، البتہ اگر کسی وجہ سے مسجد کی جماعت نہ مل سکے اور میاں بیوی جماعت سے نماز پڑھنا چاہیں تو ضروری ہے کہ مرد جماعت کروانے کا اہل بھی ہو ۔ داڑھی منڈوانے ، یا ایک مشت سے کم کروانے والا فاسق معلن اور جماعت کروانے کا اہل نہیں ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے یعنی پڑھنا گناہ اور پڑھ لی ہو تو اس نماز کا اعادہ واجب ہے ، لہذا بیوی داڑھی مونڈے شوہر کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.