Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شادی کی دعوت کے لئے کون سا وقت رکھا جائے، جس میں نمازوں کی پابندی ہوسکے
- Fatwa no.
- 2140-Web
- Issued
- 15 رجب المرجب 1446ھ / 16 جنوری 2025ء
Question
شادی کی دعوت کے لئے کون سا وقت رکھا جائے ، جس میں نمازوں کی پابندی ہو سکے دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) شادیوں کے موقع پر کے نمازی بھی فرض نمازوں کی پابندی نہیں کرتے ، نماز کی پابندی کرنا چاہیں تو کیسے کریں ؟ شادی کا ٹائم ٹیبل کیا رکھنا چاہیے کہ جس میں نماز کی پابندی ہو سکے ؟ ولہا اور دلہن کی بھی نماز قضا نہ ہو ۔ ؟ اگر عشاء کے بعد نکاح کر لیا جائے تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
مسلمانوں کو چاہئے کہ جب بھی شادی بیاہ نیا زیا کسی قسم کی تقریب ہو، نماز کا وقت ہوتے ہی کوئی مانع شرعی نہ ہو تو انفرادی و اجتماعی کوشش کے ذریعے تمام مہمانوں سمیت نماز با جماعت کیلئے مسجد کا رخ کریں ۔ بلکہ ایسے اوقات میں دعوت ہی نہ رکھیں کہ بیچ میں نماز آئے اور گہما گہمی یائستی کے باعث معاذ اللہ عزو جل جماعت فوت ہو جائے ۔ دوپہر کے کھانے کیلئے فوراً بعد نماز ظہر اور شام کے کھانے کیلئے بعد نماز عشاء مہمانوں کو بلانے میں غالباً با جماعت نمازوں کیلئے آسانی ہے ۔ میزبان، باورچی، کھانا تقسیم کرنے والے وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ وقت ہو جائے تو سارا کام چھوڑ کر باجماعت نماز کا اہتمام کریں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.