Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مکان کی پیمنٹ ذمہ پر لازم ہو، تو زکوٰۃ کس طرح نکالی جائے گی؟

Fatwa no.
2215-Web
Issued
02 رمضان المبارک 1446ھ / 03 مارچ 2025ء

Question

مکان کی پیمنٹ ذمہ پر لازم ہو، تو زکوۃ کس طرح نکالی جائے گی ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میرے والد صاحب نے اپنا گھر فروخت کر دیا ہے اور اس کی مکمل قیمت وصول کر لی ہے ، قیمت وصول کرنے کے بعد والد صاحب نے نئے گھر کا سودا کر کے ، اس کا بیعانہ بھی دے دیا ہے ، لیکن ابھی تک نہ تو مکان پر قبضہ لیا ہے اور نہ ہی رجسٹری کروائی ہے ، مکان پر قبضہ اور بقیہ رقم کی ادائیگی کا وقت رمضان المبارک کے بعد کا طے ہوا ہے ۔ میرے والد صاحب نصاب بھی ہیں اور ان کا نصاب کا سال 27 رمضان المبارک کو مکمل ہوتا ہے ، تو اب جور قم مکان بیچ کر حاصل ہوئی تھی وہ والد صاحب نے رمضان المبارک کے بعد دوسرے مکان کی قیمت کے طور پر ادا کرنی ہے ، تو کیا سال پورا ہونے کے وقت اس رقم پر بھی زکوۃ لازم ہوگی ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر گھر بیچنے کے لئے نہیں خریدا ، تو حکم یہ ہے کہ جتنی قیمت میں آپ کے والد نے گھر کی خریداری کی ہے اس میں جتنی ادائیگی باقی ہے ، وہ رقم آپ کے والد پر قرض ہے، لہذا جتنی رقم آپ کے والد کے پاس موجود ہے ، اس میں سے وہ اتنی رقم مائنس کریں گے جو رمضان کے بعد مکان کی قیمت کے طور پر دینی ہے ، پھر اس کے بعد جو مالِ زکوۃ بچے وہ بقدر نصاب ہے ، تو اس باقی بچے ہوئے مال پر زکوۃ ادا کرنی ہوگی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.