Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام کے سجدۂ سہو کرنے کے بعد نماز میں شامل ہوا، تو اس کے لئے سجدۂ سہو کا کیا حکم ہے؟

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2178-Web

Question

امام کے سجدۂ سہو کرنے کے بعد نماز میں شامل ہوا، تو اس کے لئے سجدۂ سہو کا کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) امام کے سجدہ سہو کرنے کے بعد کوئی شخص سلام سے پہلے نماز میں شامل ہوا، تو کیا اس پر سجدۂ سہو لازم ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

امام پر سجدہ سہو لازم تھا ، امام سجدہ سہو کرنے کے بعد قعدہ میں تھا کہ مسبوق جماعت میں شریک ہوا تو اس صورت میں مسبوق پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا، امام کے سلام پھیرنے کے بعد مسبوق کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کرے گا۔ صدر الشریعہ ، بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : امام کے ایک سجدہ کرنے کے بعد شریک ہوا تو دوسر اسجدہ امام کے ساتھ کرے اور پہلے کی قضا نہیں اور اگر دونوں سجدوں کے بعد شریک ہوا تو امام کے سہو کا اس کے ذمہ کوئی سجدہ نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.