Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طواف کرتے ہوئے خاتون کا چہرے کے آگے آڑ نہ لگانا
- Answered by
- مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2176-Web
Question
طواف کرتے ہوئے خاتون کا چہرے کے آگے آڑ نہ لگانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی خاتون طواف کرتے ہوئے کسی عذر کی وجہ سے چہرے کے آگے کوئی آڑیا گتا وغیرہ نہ لگا سکے ، تو کیا گناہ گار ہوگی ؟ جواب
Answer (beginning)
گناہ گار تو نہیں ہوگی ، البتہ اس کے لیے حکم یہی ہے کہ اجنبیوں سے پردہ کرنے کے لئے بوقت ضرورت چہرے کے سامنے چہرے سے جدا کسی چیز کی آڑ کر لے مثلا تا وغیرہ یا ہاتھ والا پنکھا چہرے کے سامنے رکھے۔ یہ مسئلہ بھی ذہن نشین رہے کہ عورت اگر حالت احرام میں ہو تو چہرہ کھلا رکھنا ضروری ہے کہ اس کو حالتِ احرام میں اس طرح چھپا نا کہ کپڑا وغیرہ چہرے سے مس کر رہا ہو عورت کے لئے حرام ہے ، اگر چہ منہ کھلا رکھنے میں فتنہ کا اندیشہ ہے جیسا کہ امام ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی 593ھ لکھتے ہیں : "المرأة لا تغطى وجهها مع أن في الكشف فتنہ یعنی عورت اپنے چہرے کو نہیں ڈھکے گی ، اگر چہ کھولنے میں فتنہ ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.