Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ایک بیل میں تین بچوں کا عقیقہ کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 2225-Web
- Issued
- 09 رمضان المبارک 1446ھ / 10 مارچ 2025ء دار الافتاء اهلسنت
Question
ایک بیل میں تین بچوں کا عقیقہ کرنا کیسا؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر ہم ایک بیل خرید میں اور اس میں تین بچوں کا عقیقہ کر دیں ، تو کیا عقیقہ ہو جائے گا یا سب کے لئے الگ الگ جانور ذبح کرنا ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
جس طرح قربانی کے بڑے جانور ( مثلا گائے، بیل اور اونٹ ) زیادہ سے زیادہ سات قربانیاں ہو سکتی ہیں اسی طرح میں سات بچوں کے عقیقے بھی ہو سکتے ۔ یعنی ہر بچے کی طرف سے ایک حصہ کیا تو بھی عقیقہ ہو جائے گا ۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ لڑکے کی طرف سے دو حصے ہوں اور لڑکی کی طرف سے ایک حصہ ہو۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر بچے کے لئے الگ سے جانور ذبح کیا جائے ۔ ہاں اگر چھوٹا جانور (جیسے بکرا ، بکری، دنبہ وغیر) ہو تو اس میں ایک ہی عقیقہ ہو سکتا ہے ۔ فتاوی امجدیہ میں فرماتے ہیں : کتب فقہ میں مصرح (یعنی اس بات کی صراحت کی گئی ہے ) کہ گائے یا اونٹ کی قربانی میں عقیقہ کی شرکت ہو سکتی ہے ۔ ۔ ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.