Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دوکان خرید کر کرائے پر دے کر کمانا مقصود ہو، تو کیا اس پرزکوٰۃ ہوگی

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
2223-Web
Issued
10 رمضان المبارک 1446هـ / 11 مارچ 2025 ء

Question

دوکان خرید کر کرائے پر دے کر کمانا مقصود ہو، تو کیا اس پر زکوۃ ہوگی دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی دکان خریدی جس کو کرائے پے دے کر کمانا مقصود ہے ، تو کیا اس دوکان پر زکوۃ ہوگی یا صرف کرائے پر ؟ جواب

Answer (beginning)

کرایہ پر دینے کی غرض سے خریدی گئی دکان ، مکان وغیرہ پر زکوۃ واجب نہیں ۔ ہاں ! ان سے جو کرایہ وصول ہوگا وہ اگر نصاب کا سال مکمل ہونے کے وقت موجود ہو اور تنہا یا دیگر اموال زکوۃ (سونا، چاندی، پرائز بانڈز، مال تجارت یا حاجت اصلیہ سے زائد رقم) سے مل کر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو سال مکمل ہونے پر دیگر شرائط زکوۃ کی موجودگی میں ) اس کی زکوۃ دینی ہوگی ۔ فتاوی رضویہ میں ہے : "(کرائے کے مکانات پر زکوۃ نہیں، اگر چہ پچاس کروڑ کے ہوں، کرایہ سے جو سال تمام پر پس انداز ہو گا اس پر زکوۃ آئے گی ، اگر خود یا اور مال سے مل کر قدرِ نصاب ہو ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.