Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

زکوٰۃ زیادہ ادا ہوگئی، تو کیا آنے والے سال میں شمار کر سکتے ہیں؟

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
2221-Web
Issued
06 رمضان المبارک 1446هـ / 07 مارچ 2025 ء

Question

زکوۃ زیادہ ادا ہو گئی ، تو کیا آنے والے سال میں شمار کر سکتے ہیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میں نے اپنے گمان کے مطابق دس ہزار روپے زکوۃ ادا کی، بعد میں حساب کیا ، تو زکوۃ پانچ ہزار بنی ، اب اضافی پانچ ہزار جو میں نے زکواۃ کی مد میں دئیے ہیں ، کیا آنے والے سال زکوۃ میں شمار کر سکتا ہوں ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر غلطی سے ، لازم ہونے والی مالیت سے زائد رقم زکوۃ میں ادا کر دی ہے تو اس زائد رقم کو اگلے سال کی زکوۃ میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ المحیط البرہانی میں ہے : "ولو كان عند رجل أربعمائة درهم ، فظن أن عنده خمسمائة درهم فأدى زكاة خمسمائة درهم. ثم ظهر أن عنده أربعمائة ، فله أن يحتسب الزيادة للسنة الثانية ترجمہ : اگر کسی کے پاس چار سو درہم ہوں، اور وہ یہ سمجھے کہ میرے پاس پانچ سو درہم ہیں، اور وہ پانچ سو درہم کی زکوۃ ادا کر دے ، پھر بعد میں اسے معلوم ہو کہ اس کے پاس تو چار سو درہم تھے، ( یعنی اس پر چار سو درہم کی زکوۃ لازم تھی نہ کہ پانچ سو درہم کی) تو وہ اس زائد ادا کردہ رقم کو اگلے سال کی زکوۃ میں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.