Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ضروری کام سے جدہ جانا ہو، تو میقات سے احرام باندھنا لازم ہے یا نہیں
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2212-Web
- Issued
- 04 رمضان المبارک 1446ھ / 05 مارچ 2025ء
Question
ضروری کام سے جدہ جانا ہو، تو میقات سے احرام باندھنا لازم ہے یا نہیں دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میں سعودی عرب میں بیرون میقات رہتا ہوں، کبھی کبھی مجھے اپنے کام کے سلسلہ میں میقات کراس کر کے جدہ جانا پڑتا ہے ، تو کیا میقات سے گزرنے کی وجہ سے مجھے احرام باندھنا لازم ہو گا جبکہ میرامکہ مکرمہ جانے یا عمرہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ؟ جوار
Answer (beginning)
اگر آپ کو صرف جدہ جانا ہے ، مکہ مکرمہ جانے کا ارادہ نہیں ہے اور راستے میں بھی مکہ مکرمہ نہیں پڑتا یعنی آپ مکہ مکرمہ سے گزر کر نہیں جائیں گے بلکہ حدود حرم سے باہر ہی رہیں گے تو آپ پر احرام باندھنا یا عمرہ کرنا لازم نہیں ۔ آپ بغیر ا احرام کی نیت کے بھی جدہ جاسکتے ہیں اور کام مکمل کرنے کے بعد اپنے گھر جا سکتے ہیں البتہ اگر عمرہ کرنے کی نیت ہو تو یہ نیت گھر سے کی ہے یا جدہ سے کی ہے ، اس اعتبار سے حکم مختلف ہو گا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.