Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بچے کے پیدائشی دانت ہوں، تو کیا وہ منحوس ہوتا ہے؟

Fatwa no.
2210-Web
Issued
03 رمضان المبارک 1446ھ /04 مارچ 2025 ء دار الافتاء اهلسنت

Question

بچے کے پیدائشی دانت ہوں، تو کیا وہ محسوس ہوتا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اللہ پاک نے مجھے بیٹی کی نعمت سے نوازا ہے جس کے پیدائشی دو دانت ہیں اور ایک دانت مزید نکل رہا ہے ، دانت ابھی چھوٹے چھوٹے ہی ہیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ پیدائشی دانت والا بچہ ٹھیک نہیں ہو تا ، اس کو منحوس سمجھا جاتا ہے ، اس کا کیا حکم ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

اللہ پاک آپ کی شہزادی کو مبارک کرے ۔ پیدائشی دانت نکلے ہوئے ہونے کی وجہ سے بچی کو منحوس کہنا غلط و جہالت ہے اور والدین وغیرہ کی دل آزاری کا سبب بننے کی صورت میں گناہ بھی ہے ، مشہور محدث و مفسر امام ضحاک رحمتہ اللہ علیہ جب پیدا ہوئے ، تو ان کے اگلے چاروں دانت نکل چکے تھے ، ہنستے معلوم ہوتے تھے اس لئے ضحاک نام رکھا گیا ۔ فتاوی رضویہ میں ہے : " امام شمس الائمہ سرخسی بسوط میں فرماتے ہیں : قيل ان الضحاك ولدته امه لاربع سنين، وولدته امه لاربع سنين، وولدته بعد مانبتت ثنيتاه وهو يضحک فسمی ضحاکا“ یعنی منقول ہوا کہ امام مفسر محدث ضحاک چار برس ماں کے پیٹ میں رہے ، پیدا ہوئے تو اگلے چاروں دانت نکل چکے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.