Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

روزے میں بے صبری کرنے کا حکم

Fatwa no.
2209-Web
Issued
30 شعبان المعظم 1446ء /01 مارچ 2025ء

Question

روزے میں بے صبری کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کو روزہ لگا اور اس نے بے صبری کا اظہار کر دیا، تو کیا اس پر گناہ ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

روزے میں بھوک پیاس لگے تو بلاوجہ کسی پر اظہار نہیں کرنا چاہیے، صبر کریں گے تو زیادہ اجر و ثواب ملے گا، بے صبری میں بھوک پیاس تو بلاوہ کسی پر ظاہر کرنا صبر زیادہ اجرو بے کرنا مکروہ ہے ۔ امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "روزہ میں غل مچانا اور اظہار بے صبری کرنا مکروہ ہے ۔ (فتاوی رضویہ ، جلد 6، صفحہ 595، رضا فاؤنڈیشن ، لاھور) یب : مولانا فرحان احمد عطاری مدنی فتوی نمبر : 2209-Web والله أعلم ما وجل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صلى الله تعالى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم تاریخ اجراء : 30 شعبان المعظم 1446ء /01 مارچ 2025ء دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.