Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جن عورت سے ہمبستری کر لے ، تو غسل کا حکم

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2181-Web
Issued
01 شعبان المعظم 1446ھ / 31 جنوری 2025ء

Answer (beginning)

اگر کوئی جن عورت سے ہمبستری کرے تو اس کی دو صورتیں ہیں : 1 - جن انسان کی شکل اختیار کر کے عورت سے ہمبستری کرتا ہے ، اس صوت میں حشفہ کے غائب ہونے ہی سے غسل لازم ہو جائے گا ۔ 2۔ انسانی کی شکل میں نہ ہو تو جب تک عورت کو انزال نہ ہو جائے غسل لازم نہیں ہوگا ۔ صدر الشریعہ ، بدرالطریقہ ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں : اگر جن آدمی کی شکل بن کر آیا اور عورت سے جماع کیا تو حشفہ کے غائب ہونے ہی سے غسل واجب ہو گیا ۔ آدمی کی شکل پر نہ ہو تو جب تک عورت کو انزال نہ ہو غسل واجب نہیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.