Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ٹنکی کا پانی پائپ سے لگ گیا، تو اس پانی کا کیا حکم ہوگا؟

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
2205-Web
Issued
02 رمضان المبارک 1446 / 03 مارچ 2025. دار الافتاء اهلسنت

Question

ٹنکی کا پانی پائپ سے لگ گیا ، تو اس پانی کا کیا حکم ہوگا؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) گھر کی چھت پر ٹنکی ہے ، جب ٹنکی بھر جاتی ہے، تو ٹنکی کا پانی اس پائپ سے ٹکرا جاتا ہے جس سے اس ٹنکی میں پانی گرتا ہے، کیا اس پائپ سے پانی ٹکرانے سے ٹنکی کا پانی ناپاک یا مستعمل کہلائے گا ؟ جواب

Answer (beginning)

جواب سے پہلے درج ذیل چند مسائل کو ذہن نشین کر لیجیے : (1) جو پانی وضو یا غسل کرنے میں بدن سے گرا وہ پاک ہے مگر چونکہ اب مستعمل ( یعنی استعمال شدہ) ہو چکا ہے لہذا اس سے وضو اور غسل جائز نہیں ۔ (2) یو ہیں اگر بے وضو شخص کا ہاتھ یا انگلی یا پورا یا ناخن یا بدن کا کوئی ٹکڑا جو وضو میں دھویا جاتا ہو بقصد ( یعنی جان بوجھ کر) یا بلا قصد (یعنی بے خیالی میں) وہ در وہ 10 × 10 گز) سے کم پانی میں بے دھوئے ہوئے پڑگیا تو وہ پانی وضو اور غسل کے لائق نہ رہا۔ (3) اسی طرح جس شخص پر نہانا فرض ہے اس کے جسم کا کوئی بے ذھلا ہوا حصہ وہ دردہ سے کم پانی سے چھو جائے تو وہ پانی وضو اور غسل کے کام کا نہ رہا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.