Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں التحیات کا کوئی کلمہ پڑھنے سےرہ جائے، تو کیا حکم ہے؟

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
2204-Web
Issued
08 شعبان المعظم 1446ھ /07 فروری 2025ء

Question

نماز میں التحیات کا کوئی کلمہ پڑھنے سے رہ جائے ، تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) قعدہ اخیرہ میں اگر کوئی کلمہ جیسے التحیات میں "علینا نہ پڑھا، یا پڑھنا بھول گئے، تو کیا نماز ہو جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

نماز میں قعدہ اخیرہ فرض ہے اور اس معاملہ میں فرض ادا ہونے کا معیار تمین بار تسبیحات کی مقدار بیٹھنا نہیں ، بلکہ اتنی ویر تک بیٹھنا ہے کہ پوری التحیات عبدہ ورسولہ تک پڑھ لی جائے ، جبکہ اس دوران پوری التحیات یعنی عبده و رسوله تک ہر ہر لفظ کا پڑھنا واجب ہے ، چاہے قعدہ اخیرہ ہو یا قعدہ اولی ۔ لہذا پوچھی گئی صورت کے مطابق اگر بھولے سے ، الحیات کا کوئی کلمہ رہ جائے تو آخر میں سجدہ سہو کرنا لازم ہو جائے گا، بغیر سجدہ سہو کئے سلام پھیر دیا تو نماز واجب الاعادہ ہو جائے گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.