Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میرم نام کا معنی اور حکم ؟

Fatwa no.
2170-Web
Issued
17 جمادی الاخریٰ 1446ھ /20 دسمبر 2024ء دار الافتاء اهلسنت

Question

میرم نام کا معنی اور حکم ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میرم کا معنی کیا ہے اور یہ نام رکھ سکتے ہیں یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

میرم کے مختلف معنی ہو سکتے ہیں مثلا کسی چیز کے پھلانے کا آلہ یا دانتوں سے پکڑنے کا آلہ ۔ ایک قول کے مطابق میرم اس غار کا نام ہے جس میں اصحاب کہف آرام کرتے رہے اور ایک قول کے مطابق بیت المعمور کے سامنے ایک دروازے کا نام میرم ہے جس سے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیجا گیا ۔ اگران اچھی نسبتوں کو ملحوظ رکھ کر میرم نام رکھا جائے ، تو یہ جائز ہوگا ۔ تفسیر ماوردی میں ہے : " وقد روي أن اسم جبل الكهف بنا جلوس ، واسم الكهف سيرم واسم المدينة أفسوس “ یعنی مروی ہے کہ غار والے پہاڑ کا نام بنا جلوس تھا ، غار کا نام میرم اور شہر کا نام افسوس تھا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.