Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بیٹی کی شادی کے لئے رکھے زیور پر زکوٰۃ کا حکم

Fatwa no.
2197-Web
Issued
23 شعبان المعظم 1446ء / 22 فروری 2025ء

Question

بیٹی کی شادی کے لئے رکھے زیور پر زکوۃ کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) والدین نے اپنی بالغہ میٹی کی شادی کی نیت سے زیور بنا کر رکھا ہو، تو کیا اس پر والد کو زکوۃ دینی ہوگی ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر والد یا والدہ نے اپنی ملکیت میں زیور رکھا ہوا ہے اور نیت یہ ہے کہ بیٹی کی شادی پر اس کو دیں گے تو اس زیور پر بھی نصاب تک پہنچنے اور دیگر شرائط زکوۃ پائی جانے کی صورت میں زکوۃ لازم ہوگی، نیز یہ زکوۃ نکالنا اسی پر لازم ہوگا جس کی ملکیت میں یہ زیور موجود ہے ۔ فتاویٰ اہلسنت میں ہے : " سونا، چاندی جو جہیز یا بری میں چڑھانے کے لئے بنائے گئے ہوں ، ان پر زکوۃ ہوگی جبکہ جس کی ملکیت میں ہوں اس کے پاس تنہا نصاب کو پہنچتے ہوں یا دیگر اموال زکوۃ سے مل کر نصاب کو پہنچ جائیں ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.