Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا نماز میں مقتدی کی کسی غلطی کا بوجھ امام پر ہوتا ہے؟
- Answered by
- مولانا عابد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2195-Web
- Issued
- 26 شعبان المعظم 1446ھ /25 فروری 2025ء
Question
کیا نماز میں مقتدی کی کسی غلطی کا بوجھ امام پر ہوتا ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر مقتدی نماز میں کوئی غلطی کرے تو اس کا گناہ یا بوجود امام پر تو نہیں ہوتا ؟ جواب
Answer (beginning)
متندمی نماز میں کوئی واجب یا فرض وغیرہ چھوڑ دے تو اس سے امام پر کوئی گناہ نہیں ہو تا ، ہاں اگر امام کو غلطی معلوم ہو جائے تو حتی الامکان مقتدی کی اصلاح کرے اور درست مسئلہ اس کو سمجھا دے ۔ اگر ظن غالب ہو کہ امام کے سمجھانے پر مقتدی غلطی کو درست کر لے گا تو اب امام پر سمجھانا واجب ہو جائے گا مگر عموماً ایسی کیفیت نہیں ہوتی ۔ وَالله اَعْلَمُ عزوجل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّه تَعَالَى عَلَيهِ وَآلِهِ وَسَلَّم مجیب : مولانا عابد عطاری مدنی فتوی نمبر : 2195-Web تاریخ اجراء : 26 شعبان المعظم 1446ھ /25 فروری 2025ء دار الافتاء اهلسنت DARUL IFTA AHLESUNNAT Dar-ul-IftaAhlesunnat…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.