Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آستین کے بٹن کھلے ہونے کی صورت میں نماز پڑھنے کا حکم

Answered by
مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2193-Web
Issued
22 شعبان المعظم 1446ھ /21 فروری 2025ء

Question

آستین کے بٹن کھلے ہونے کی صورت میں نماز پڑھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی آستین کے بٹن جان بوجھ کر کھلے رکھ کر نماز پڑھتا ہے تو کیا حکم ہے؟ جواب

Answer (beginning)

آستین کے بٹن جان بوجھ کر کھلے رکھے ہوں تب بھی نماز ہو جائے گی لیکن یہ مکروہ تنزیہی ہے ۔ البتہ اگر آستین کو اتنا فولڈ کیا کہ وہ آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہو تو اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی ہوگی ۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی، یا دامن سمیٹے نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے ۔ (بہارِ شریعت ، جلد 1، صفحہ 624، مکتبۃ المدینہ) فتاویٰ فیض الرسول میں ہے : "جس قمیص کی آستین بٹن والی ہو اور بٹن نہ لگائے ، تو نماز مکروہ ہوگی اور ظاہر کراہت تنزیہی ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.