Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر مسلم کا تھوک و پسینہ پاک ہے یا ناپاک؟

Answered by
مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
Fatwa no.
2191-Web
Issued
16 شعبان المعظم 1446ء /15 فروری 2025ء

Question

غیر مسلم کا تھوک و پسینہ پاک ہے یا نا پاک ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) غیر مسلم کا تھوک یا پسینہ پاک ہے یا ناپاک ؟ اگر غیر مسلم کا تھوک یا پسینہ کسی مسلمان کو لگ جائے تو کیا وہ کپڑا نا پاک ہو جائے گا ؟ جواب

Answer (beginning)

کا فر کا تھوک یا پسینہ اگر چہ شرعی لحاظ سے پاک ہے اور کپڑے پر لگنے سے کپڑا نا پاک نہیں ہو گا لیکن اس سے بچنا چاہیے ۔ بہار شریعت میں ہے : " آدمی چاہے جنب ہو یا حیض و نفاس والی عورت اس کا جھوٹا پاک ہے ۔ کا فر کا جھوٹا بھی پاک ہے ، مگر اس سے بچنا چاہیے جیسے تھوک ، رینٹھ ، کھنکار کہ پاک ہیں مگر ان سے آدمی گھن کرتا ہے اس سے بہت بدتر کافر کے جھوٹے کو سمجھنا چاہیے ۔ “ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ2، صفحہ 341،مکتبۃ المدینہ کراچی) والله أعلم عزوجل وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّم مجیب : مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی فتوی نمبر : 2191-Web تاریخ اجراء : 16 شعبان المعظم…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.