Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام نے سجدے سے اٹھتے ہوئے بھول کر سمع اللہ لمن حمدہ کہا، تو نماز کا حکم؟

Answered by
مولانا عابد عطاری مدنی
Fatwa no.
2188-Web

Question

امام نے سجدے سے اٹھتے ہوئے بھول کر سمع اللہ لمن حمدہ کہا، تو نماز کا حکم ؟ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) امام صاحب نے دوسرے سجدے سے اٹھتے ہوئے اللہ اکبر کہنے کے بجائے سمع اللہ لمن حمدہ کہہ دیا، کیا اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوگا ؟ نیز اگر امام نے اس غلطی کی وجہ سے سجدۂ سہو کر لیا ہو، تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟ جواب

Answer (beginning)

امام نے دوسرے سجدے سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہنے کے بجائے سمع اللہ لمن حمدہ کہا تو سنت چھوٹی ، لیکن اس صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا ۔ اگر محض اسی وجہ سے امام نے احتیاطاً سجدہ سہو کیا اور مسبوق مقندی (یعنی جس کی کوئی رکعت نکل چکی تھی اس) نے بھی امام کے ساتھ سجدۂ سہو کر لیا ، تو اس مسبوق کی نماز ٹوٹ جائے گی ۔ لیکن اگر امام نے سجدہ سہو احتیاطاً نہیں کیا بلکہ کسی دوسرے سبب کی وجہ سے سجدہ واجب ہو چکا تھا یا امام نے سجدہ سہو کیا ہی نہیں تو ان دونوں صورتوں میں مسبوق کی نماز درست ہو جائے گی ۔ فتاوی رضویہ شریف میں ہے : " بے حاجت سجدہ سہو نماز میں زیادت اور ممنوع ہے مگر نماز ہو جائے گی ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.