Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عصر کی نماز کے دوران وقت ختم ہوگیا، تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 2202-Web
- Issued
- 12 شعبان المعظم 1446ھ / 11 فروری 2025ء علم الافتاء اهلسنت
Question
عصر کی نماز کے دوران وقت ختم ہو گیا، تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا عصر کی نماز کا وقت ختم ہو گیا اور کوئی نماز پڑھ رہا تھا تو اس کی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟ جواب
Answer (beginning)
مغرب کا وقت داخل ہونے سے پہلے اگر تکبیر تحریمہ کہ لی تو اگرچہ عصر کی نماز کے دوران مغرب کا وقت داخل ہو جائے، نماز عصر ادا ہو جائے گی، تاہم یہ یادر ہے کہ بلاوجہ شرعی نماز عصر کی ادائیگی میں اتنی تاخیر کرنا ہر گز جائز نہیں کہ مکروہ وقت داخل ہو جائے یعنی غروب آفتاب میں صرف ہیں منٹ رہ جائیں ، اگر چہ ایسی صورت میں وقتی نماز قضنا کرنے کی اجازت نہیں اور اس دن کی عصر کی نماز اسی وقت میں پڑھی جائے گی اور نماز بھی ہو جائے گی لیکن بلاعذر شرعی اتنی تاخیر کرنے کی صورت میں گناہگار ہوگا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.