Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کسی کواس کی بیوی کے علاج کے لئے زکوٰۃ کی مد میں رقم دینا
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2201-Web
- Issued
- 22 شعبان المعظم 1446 ه / 21 فروری 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
کسی کو اس کی بیوی کے علاج کے لئے زکوۃ کی مد میں رقم دینا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے ایک عزیز ہیں ان کے مالی حالات ٹھیک نہیں اور ان کی بیگم بھی بیمار ہیں جن کے علاج کے لیے کافی رقم درکار ہے ، تو کیا ان کی بیگم کو زکوۃ دی جا سکتی ہے جبکہ شوہر کی ملکیت میں تین تولہ سونا موجود ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
مذکورہ عورت اگر شرعی فقیر ہے نیز سیدہ یا ہاشمیہ نہیں ہے ، تو اسے زکوۃ دی جاسکتی ہے نیز اس کے گھر والوں میں سے اگر کوئی اور شخص جو شرعی فقیر غیر سید، غیر ہاشمی ہے تو اسے بھی زکوۃ دی جا سکتی ہے ، زکوۃ ادا ہو جائے گی۔ بیوی اگر شرعی فقیر ہو تو، شوہر کی ملکیت میں سونا موجود ہونا اس کی بیوی کو زکوۃ دینے سے رکاوٹ نہیں بنے گا ۔ شرعی فقیر (جس کوزکوۃ وغیرہ دیگر صدقات واجبہ دے سکتے ہیں) اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کی ملکیت میں حاجت اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر یا اس سے زائد کسی بھی قسم کا مال نہ ہویا ہولیکن وہ اتنا مقروض ہو کہ اس مال سے اس کا قرض مائنس کیا جائے تو اس کی ملکیت میں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.