Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مال اور وسیع کاروبار کے لئے دعا مانگنے کا حکم

Fatwa no.
2199-Web
Issued
23 شعبان المعظم 1446ء / 22 فروری 2025. دار الافتا اهلسنت

Question

مال اور وسیع کاروبار کے لئے دعا مانگنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا مال و دولت اور وسیع کاروبار کے لیے دعا مانگنا گناہ ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

مال و دولت اور وسیع کاروبار کے لیے دعا مانگنا گناہ نہیں بلکہ جائز ہے۔ البتہ اللہ پاک سے عافیت کا سوال کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ کئی بار انسان مال و دولت اور وسیع کا روبار ہونے کے بعد بہت سی آزمائشوں اور فتنوں میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔ لہذا اللہ پاک سے عافیت والا مال و دولت اور عافیت والے وسیع کاروبار کی دعا کرنی چاہیئے ۔ عجیب : مولانا عابد عطاری مدنی فتوی نمبر : 2199-Web وَاللَّهُ أَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُه أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَأَلِهِ وَسَلَّم تاریخ اجراء : 23 شعبان المعظم 1446ء / 22 فروری 2025.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.