Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ہالہ و بلقیس نام ایک ساتھ رکھنا
- Answered by
- مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2162-Web
- Issued
- 12 شعبان المعظم 1446ء / 11 فروری 2025. دام الافيا اهلسنت
Question
ہالہ و بلقیس نام ایک ساتھ رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کسی بچے کا نام ایک ساتھ دو الگ الگ شخصیت کے ناموں پر رکھ سکتے ہیں ؟ جیسے بیٹی کا نام ہالہ بلقیس رکھنا ؟ جواب
Answer (beginning)
بلقیس ملکہ سباء کا نام ہے ، جو اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت سید نا سلیمان علیہ السلام کی زوجہ بنیں جبکہ ہالہ سیدالشہداء حضرت سید نا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ماجدہ کا نام ہے ، اس کا معنی ہے چاند کے چاروں اطراف کا روشن دائرہ ۔ (ماخوذ از نام رکھنے کے احکام ، صفحہ 151۔ 155، مکتبۃ المدینہ کراچی) لہذا بچی کا نام ہالہ بلقیس رکھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں۔ البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ اسلاف دو، دو، تین تین ناموں پر مشتمل نام نہیں رکھتے تھے بلکہ سادہ ایک لفظ کے نام ہوتے تھے ۔ لیکن اگر دو، دو، تین تین ناموں پر مشتمل نام بھی رکھ لیا تو بھی شرعاً جائز ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.